اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے ملک کی شیعہ اکثریت کی اقدار کے خلاف اقدامات کا نیا سلسلہ ان دنوں خطے اور عالم اسلام کی اہم ترین سماجی خبروں میں شامل ہو گیا ہے۔ تعلیمی سال کے ابتدائی ہفتوں میں لباس سے متعلق نئے ضابطے نافذ کیے جانے کے باعث سینکڑوں طالبات اور باحجاب خواتین اساتذہ کو کلاسوں میں جانے سے روک دیا گیا۔ اس صورت حال پر فوری طور پر خطے اور دنیا بھر میں ردعمل سامنے آیا۔
اس معاملے پر سب سے نمایاں بیرونی ردعمل ترکیہ کی جانب سے سامنے آیا، جو آذربائیجان کا اتحادی، دوست اور تزویراتی شراکت دار ہے۔ ترک صدر کے سینئر مشیر اوکتائے سارال نے ان پابندیوں کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے باکو سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’اپنی غلطی فوری طور پر درست کرے‘‘۔
ترکیہ کی سب سے بڑی سیکولر جماعت کے رہنما کمال قلیچدار اوغلو، جو صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں، نے بھی آذربائیجان پر زور دیا کہ وہ حجاب کے معاملے میں ترکیہ کی غلطی کو نہ دہرائے۔
اسی سلسلے میں ترکیہ کے یورپی حصے کے شہر استنبول میں شہریوں نے آذربائیجان کے قونصل خانے کے سامنے احتجاجی اجتماع کیا اور نعرے لگائے کہ ’’حجاب مسلمان عورت کی شناخت ہے‘‘۔
ترکیہ کی سعادت پارٹی کے سربراہ محمود آریکان نے بھی آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے نام کھلا خط لکھا۔ انہوں نے ترکیہ میں 28 فروری کے تلخ تجربے اور فوجی مداخلت کی یاد دلاتے ہوئے حجاب پر پابندی کو ’’ضمیر پر گہرا زخم‘‘ قرار دیا۔
اس کے برعکس آذربائیجان کی حکمراں جماعت ’’ینی آذربائیجان‘‘ نے ان تنقیدوں پر ردعمل دیتے ہوئے ملک کی سیکولر حیثیت پر زور دیا اور ترک حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ آذربائیجان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ جماعت نے خبردار کیا کہ حجاب کے مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ درحقیقت آذربائیجان کے حکام نے غیر رسمی ذرائع کے ذریعے ترکیہ کو جواب دیا۔
عالم تشیع میں اب تک عراق کی تحریکِ صدر کے رہنما سید مقتدیٰ صدر نے آذربائیجان کے اقدامات کی مذمت کی ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ تاہم ایران میں، جس کے عوام کے آذربائیجان کے عوام کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی تعلقات سب سے زیادہ قریبی ہیں، اب تک کوئی قابلِ ذکر سرکاری یا غیر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حقیقت یہ ہے کہ الہام علییف کی حکومت کا تشیع اور ایران سے متعلق معاملات میں معاندانہ رویہ بعض ایرانی حکام کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اس معاملے پر توجہ دلانے کے جواب میں آذربائیجان کس نوعیت کا رویہ اختیار کرے گا۔
ایسی صورت حال میں، جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ میں مصروف ہے، وائٹ ہاؤس ایران کی بحری اور زمینی ناکہ بندی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور باکو حکومت بھی متعدد مرتبہ ایرانی ٹرانزٹ راستے بند کرکے اور ہزاروں ایرانی گاڑیوں اور ڈرائیوروں کو سرحدوں پر انتظار کرنے پر مجبور کرکے اپنی مخالفت کا اظہار کر چکی ہے، تو براہِ راست اور سرکاری سطح پر سخت ردعمل کی توقع شاید زیادہ معقول نہ ہو۔ تاہم، عوامی اور غیر سرکاری سطح پر ردعمل ظاہر کرنے میں کوئی رکاوٹ یا مصلحت حائل نہیں ہونی چاہیے۔
اس لیے موجودہ حالات میں بہترین اقدام یہ ہے کہ عوام اور شیعہ برادری آذربائیجان میں حجاب کے حق کے مطالبے کی حمایت کریں۔
جس طرح آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ کے دوران، جسے آذربائیجانی علاقوں کی واپسی کی کوشش قرار دیا گیا تھا، ایران میں ترک زبان بولنے والے علاقوں کے ائمہ جمعہ، اردبیل اور آذربائیجان کے مذہبی و سماجی حلقوں اور حتیٰ کہ زنجان کی شخصیات سمیت تقریباً تمام متعلقہ مذہبی اور سماجی حلقوں نے آذربائیجان کے حق کی حمایت کی تھی، اسی طرح اب بھی شیعہ عوام کے حقوق کی حمایت کی جانی چاہیے۔ یہاں تک کہ رہبرِ انقلابِ شہید نے بھی اپنے ایک خطاب میں آذربائیجان کے حق کی حمایت کرتے ہوئے آرمینیائی باشندوں کے حقوق پر بھی زور دیا تھا۔
اب مناسب ہوگا کہ آذربائیجان سے متصل ایرانی سرحدی صوبوں، بالخصوص اردبیل اور مشرقی آذربائیجان میں عوامی حلقے آگے آئیں اور آذربائیجان کے شیعوں کے حقوق کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کریں۔ ان علاقوں کے بعض مقبول ائمہ جمعہ کا کردار اس حوالے سے انتہائی اہم ہے اور ان کی حمایت کی جانی چاہیے۔ باکو حکومت یہ ظاہر کر چکی ہے کہ اسے ایران کی آذری شخصیات کی دینی مقبولیت اور ان کی باتوں کے آذربائیجان کے اندر اثرات سے خاصی تشویش لاحق ہے۔
غیر رسمی سفارت کاری کے میدان میں بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی صاحبزادی اور الہام علییف کی صاحبزادی کے درمیان خوشگوار تعلقات کو بروئے کار لانے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔ دونوں آذری زبان میں بھی ایک دوسرے سے گفتگو کر سکتی ہیں۔
بہرحال، دانش مندی کے ساتھ آذربائیجان کی صورت حال پر مؤثر ردعمل ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ باکو کے حکام ایران کے کردار کے حوالے سے شدید خدشات اور بے چینی کا شکار ہیں اور حجاب کے موجودہ بحران میں بھی وہ اپنی مشکلات اور فیصلوں کا ذمہ دار ایران کو سمجھتے ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آذربائیجان نے اپنے حالیہ اقدام کے ذریعے خود کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جس میں اس سے پہلے خطے کی بڑی اور زیادہ طاقتور حکومتیں بھی پھنس چکی ہیں، لیکن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
آپ کا تبصرہ